قافلہ بے قطار تھا اپنا
اور میں سوگوار تھا اپنا
اب تو کچھ بھی نظر نہیں آتا
آئنوں میں شمار تھا اپنا
گرد بیٹھی تو میں نظر آیا
جسم سارا غبار تھا اپنا
آنکھ تھی اور حسن تھا اس کا
دل کوئی آبشار تھا اپنا
قافلہ بے قطار تھا اپنا
اور میں سوگوار تھا اپنا
اب تو کچھ بھی نظر نہیں آتا
آئنوں میں شمار تھا اپنا
گرد بیٹھی تو میں نظر آیا
جسم سارا غبار تھا اپنا
آنکھ تھی اور حسن تھا اس کا
دل کوئی آبشار تھا اپنا